ہجرتِ مدینہ
جس وقت مسلمان ،شہرِ مکّہ میں مشرکین کے شدید ظلم و ستم کا شکار تھے پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے انہیں مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا ، کفّارِ قریش کو خطرہ محسوس ہوا اور انہوں نےسوچا کہ مسلمانوں کی مدینہ ہجرت سے ان کے اتّحاد ، سیاسی اور اقتصادی طاقت میں اضافہ ہوگا جو مستقبل ِقریب میں ہمارے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ بن سکتا ہے ، اس مسئلہ کے راہِ حل پر غور و خوض کے لئے مشرکین ِ مکّہ دارالنّدوہ نامی جگہ پر جمع ہوئے ،ہرکسی نے اس احتمالی خطرہ کی روک تھام کے لئے تجویز پیش کی ،آخرِ کار ابوجہل کی تجویز کو منظور کرلیا گیا ، ابوجہل کی تجویز یہ تھی کہ قریش کے ہر قبیلہ سے ایک بہادر اور شجاع فرد کو منتخب کیا جائے، یہ سبھی افراد رات کے سنّاٹے میں پیغمبراکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر دفعتہً حملہ آور ہوں اوربستر پر ہی انہیں قتل کرڈالیں، وہ رات آ پہنچی ، جبرائیل امین [ع] نے حضرت ختمیٔ مرتبت صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو مشرکین کی اس سازش سے آگاہ کیا ، جس کے بعد پیمبراکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم رات کی تاریکی میں مکّہ سے خارج ہوئے اور مکّہ سےسات کلومیٹر جنوب میں واقع غارِ ثور میں جا چھپے ۔ اس رات تمام دنیا کے حرّیت پسندوں کے مولا، رسولِ خداصلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے محبوب ، حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے شوہر امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السّلام پیغمبراکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے بستر ِ مبارک پر گہری نیند سوئے ، اُس رات خدا کی طرف سے آسمان سے جبرائیل اور میکائیل نازل ہوئے اور تمام رات حضرت علی علیہ السّلام کے بسترِ مبارک کے پاس رہے ، حضرت جبرائیل نے حضرت علی علیہ السّلام سے فرمایا : شاباش شاباش! اے ابوطالب کے فرزند! آپ جیسا کون ہے کہ فرشتے بھی آپ کی ذات پر فخر ومباہات کر رہے ہیں، اس موقع پر حضرت علی علیہ السّلام کی شان میں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۲۰۷ پیغمبراکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر نازل ہوئی،حضرت علی علیہ السّلام تین رات ،دن تک مکّہ میں رکے رہے ،اس دوران آپ نے پیغمبراکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے فرمان کے مطابق ان امانتوں کو صاحبانِ امانت کو واپس کیا جو انہوں نے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے پاس رکھوا رکھی تھیں، اس کے بعد مولائے کائنات نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی ، سرکاردوعالم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سرزمینِ قبا پر آپ کے منتظر تھے اسی مقام پر مولائے کائنات آنحضرت صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے ملحق ہوئے ، سرورکائنات صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پہلی ربیع الاوّل ؁ ۱۳ بعثت بروزِ پنچشنبہ مکّہ سے خارج ہوئے اور اسی مہینہ کی ۱۲ تاریخ کو مدینہ میں تشریف فرما ہوئے ۔
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved