لدائی کہ عمل

اہلِ بیت )ع)عالمی  اسمبلی کا تعارف

مرسلِ اعظم ، سرکارِ دوعالم حضرت محمّد مصطفیٰ (ص) نے  اپنے آخری فرمان میں امّت ِ مسلمہ کو قرآنِ کریم اور اہلِ بیت عصمت و طہارت( علیہم السّلام ) کی پیروی کی گرانقدر نصیحت فرمائی ،اس وصیت کی رو سے ائمۂ طاہرین علیہم السلام  دنیا کے تمام صاحبانِ دیانت کا محور اور مرجع ہیں  جو قرآنِ ناطق کی طرح  دینی اور دنیوی امور میں صاحبانِ ایمان کی  منزلِ کمال کی طرف ہدایت اور رہنمائی کرتے ہیں ۔

اگرچہ محبّان ِ اہلِ بیت علیہم السّلام نے اپنے پیشواووں کو اپنا نمونۂ عمل قرار دیتے ہوئے تاریخ کے ہردور میں دینِ اسلام ، مسلمانوں اور خالص اسلامی ثقافت کے دفاع اور حفاظت کا قابل فخر کارنامہ انجام دیا ہے اور اس سلسلہ میں کسی بھی کوشش اور قربانی سے دریغ نہیں کیا  ہے لیکن    محبّان ِ اہل بیت علیہم السّلام کے درمیان تبادلۂ خیال کے سازگار ماحول  کی فراہمی ، ان کے مشترکہ مفادات کی حفاظت، عالم ِ اسلام کے معاشرتی اور ثقافتی مسائل  کوحل کرنے کے لئے باہمی تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت نیز امّتِ مسلمہ کے عظیم مادی اور معنوی وسائل سے استفادہ کے پیشِ نظر ایک ایسے جامع و ہمہ گیر  ادارہ کا قیام ناگزیر تھا جو ان ذمّہ داریوں کا بیڑا اٹھائے ۔

اسی  ضرورت کے تحت  اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والے کچھ دانشوروں نے ولیٔ فقیہ اور  عالمِ شیعت کی جلیل القدر مرجعیّت کی زیرنگرانی  ایک غیرسرکاری اور عالمی ادارہ کے  طور پر  "اہل بیت عالمی اسمبلی " کا سنگِ بنیاد رکھا  تا کہ  شیعیان ِ اہل بیت  ِ عصمت و طہارت (ع) تک رسائی ، ان میں   ہم آہنگی ، تعلیم اور دیگر شعبوں میں ان کی حمایت  کی سنگین ذمّہ داری کا بیڑا اٹھاسکے ۔

 موجودہ دنیا میں حالات کی برق رفتار تبدیلی ، زمان و مکان کے فاصلوں  کے  خاتمہ ، مواصلاتی انقلاب اور بین الاقوامی اداروں کےمؤثّر  کردار نے بھی اس ادارہ کی اہمیت میں اضافہ کردیا ہے ۔

پروردگارِ عالم کے لطف و کرم کے طفیل میں اس عالمی ادارہ نے آج تک بہت سے شائستہ  اقدامات  کئے ہیں ، یہ ادارہ اس عظیم ذمہّ داری کو جاری و ساری رکھنے کے لئے دنیا کے تمام مسلمانوں کی طرف  صدق ِ دل سے اخوّت ، دوستی اور  تعاون کا ہاتھ بڑھاتا ہے ۔

یہ تحریر اہل بیت اسمبلی کی مختصر تاریخ ،  اس کے اغراض و مقاصد،  اس کی تنظیم اور اہم سرگرمیوں پر مشتمل ہے ۔

اغراض و مقاصد

اہل بیت عالمی اسمبلی کے قیام اور اس کی فعّالیت کے اہم ترین اغراض و مقاصد مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔ محمّدیؐ  خالص اسلام  کی ثقافت اور تعلیمات کا  احیا اور فروغ ، قرآن کریم ، پیغمبراکرمﷺ اور ائمۂ طاہرین علیہم السّلام  کی سنّت کی حریم کا دفاع اور حفاظت ۔

۲۔ تمام فرزندانِ توحید بالخصوص اہل بیت علیہم السّلام کے پیرووں میں اتّحاد و بھائی چارہ کا جذبہ پیدا کرنا۔

۳۔ دنیا کے تمام مسلمانوں کے وجود اور محبّانِ اہل بیت علیہم السّلام کے حقوق کا دفاع ۔

۴۔ دنیا میں اہلِ بیت علیہم السّلام کے پیرووں کے مادی اور معنوی  بنیادی ڈھانچہ کا فروغ و استحکام ۔

۵۔ پوری دنیا کے شیعوں کی ثقافتی ، سیاسی ، معاشی اور سماجی پوزیشن کی اصلاح و ترقّی کے لئے مدد کرنا۔

۶۔ شیعیانِ عالم کو میڈیا کی مظلومیت اور علمی پسماندگی سے نجات دلانا ۔

اسمبلی کی تنظیم اور ارکان پر ایک نگاہ

جنرل اسمبلی

اس ادارہ کی جنرل اسمبلی  پوری دنیا کے شیعوں کے اہم دانشوروں ، مفکّروں اور ممتاز شخصیات پر مشتمل ہے ، اس اسمبلی کے اراکین ہمیشہ ہی  " اہل بیت عالمی اسمبلی " سے رابطہ  میں رہتے ہیں اور ہر چار سال میں ایک مرتبہ مشترکہ اجلاس کے لئے   جمع ہوتے ہیں ۔

سپریم کونسل

سپریم کونسل، جنرل اسمبلی کے بعض ممتاز اراکین پر مشتمل ہے جو اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی پالیسیوں ، منصوبوں اور اس کے بجٹ کو منظوری دیتے ہیں اور اس   کی فعّالیتوں پر نگرانی  رکھتے ہیں ۔

 

 جنرل سیکریٹری

سیکریٹری جنرل ،اہل بیت عالمی اسمبلی کا سب سے اعلیٰ عہدیدار ہے جسے اس اسمبلی کو چلانے ، اس کی پالیسیوں اور منصوبوں کے نفاذپر  نگرانی کے لئے  سپریم کونسل کی طرف سے منتخب کیا جاتا ہے ۔

اس وقت حجّۃ الاسلام والمسلمین جناب محمّد حسن اختری  اس اسمبلی کے جنرل سیکریٹری ہیں

اسمبلی کے ذیلی شعبے

اس اسمبلی  میں چار ذیلی شعبے   سرگرمِ عمل ہیں جن کے اسماء یہ ہیں " بین الاقوامی شعبہ " ،" شعبۂ ثقافت " ،"انتظامی امور کا شعبہ " اور معاشی امور کا شعبہ ۔

بعض اہم اسرگرمیاں

۱۔ جنرل اسمبلی کا اجلاس

اسمبلی کا سب سے پہلا اجلاس سنہ ۱۳۷۲ ہجری شمسی کے گیارہویں مہینہ(جنوری ۱۹۹۴ عیسوی) میں تہران میں منعقد ہوا  ، اس اجلاس میں دنیا کے اکسٹھ ممالک سے تعلّق رکھنے والے  اسمبلی کے اراکین نے شرکت کی ان کے علاوہ مختلف اسلامی ممالک کے بعض دانشوروں ، محقّقوں اور مختلف مسائل کے ماہرین نے بھی اس اجلاس میں حصّہ لیا۔

جزل اسمبلی کا دوسرا اجلاس سنہ ۱۳۷۶ ہجری شمسی (جنوری ۱۹۹۸عیسوی) کے گیارہویں مہینہ (بہمن) میں منعقد ہوا جس میں دنیا کے چھپّن ممالک سے تعلّق رکھنے والے  ساڑھے تین سو سے زائد دانشوروں اور مفکّروں نے شرکت کی ۔

جنرل اسمبلی کا تیسرا اجلاس سنہ ۱۳۸۲ ہجری شمسی کے ساتویں مہینہ (اکتوبر ۲۰۰۳ عیسوی)  میں منعقد ہو ا جس میں اسّی ممالک  کے پانچ سو  اراکین نے شرکت  کی ، اس اجلاس میں دیگر مسائل کے علاوہ شیعیانِ عالم کے معاشی مسائل کے حل اورانسانی حقوق کے مبانی و مفاہیم کی بنیاد پران کے حقوق کے دفاع کے لئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔

جنرل اسمبلی کا چوتھا اجلاس سنہ ۱۳۸۶ ہجری شمسی کے پانچویں مہینہ(مہر) میں منعقد ہوا یہ اجلاس سنہ ۱۴۲۸ ہجری قمری کے ماہِ شعبان کے مبارک ایّام  میں منعقد ہوا جس میں دنیا کے ایک سو دس ممالک کے چار سو ساٹھ اراکین نے شرکت کی ۔

۲۔ تحقیق اور ریسرچ

یہ شعبہ مندرجہ ذیل امور کا ذمّہ دار ہے :

 (الف) ریسرچ اور تحقیق کے متعلّق منصوبوں کی تیّاری  اور انہیں پیش کرنا ۔

(ب) کتابوں کی نشرو اشاعت اور ان کی تنقیح ۔

(پ)کتابوں کے مؤلّفوں اور مصنّفوں سے ان کے حقوقِ تصنیف و تالیف کی خریداری کے لئے رابطہ کرنا ،

(ت) مخلتف علمی کمیٹیوں کی تشکیل اور ان کا انتظام و انصرام۔

۳۔ ترجمہ

اہل بیت عالمی اسمبلی کے شعبۂ نشر و اشاعت نے مختلف زبانوں کے مترجمین کی خدمات کو حاصل کرتے ہوئے  اہلِ تشیّع کی تحقیقی اور مایہ ناز کتابوں کے انگلش، عربی، فرانسیسی ، ہسپانوی ، ترکی آذری، ترکی استانبولی ، کردی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کا بیڑا اٹھایا ہے ۔

کتابوں کے ترجمہ کے علاوہ یہ ادارہ مقالات ، بیانات اور اسمبلی سے متعلّق خط و کتابت کے شعبہ میں بھی فعّال ہے ۔

۴۔ تقسیم و اشاعت

شعبۂ تحقیق اور ترجمہ  سے جو بھی کتاب   تیاری کے مختلف مراحل کو طے کرنے کے بعد طباعت کے قابل  ہوتی ہے اسمبلی کا شعبہ ٔ نشر و اشاعت اس کو چھاپ کردنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے محبّان اہل بیت (ع) میں تقسیم کرتا ہے جس کے نتیجہ میں دنیا کی تینتیس زندہ زبانوں میں تقریباایک ہزار  موضوع پرکتابوں کو شائع اور دنیا کے دورترین   مقامات پر ارسال کیا جاچکا ہے ۔

 

۵۔ مختلف نمائشوں میں شرکت

اہل بیت عالمی اسمبلی بین الاقوامی کتابی نمائشوں کو خصوصی اہمیت دیتی ہے اور ان نمائشوں کو اسلامی تعلیمات کی ترویج اور فروغ کا بہترین موقع جانتے ہوئے ان سے محبّان اہل بیت (ع) سے رابطہ قائم کرنے کے لئے استفادہ کرتی ہے ۔

۶۔ جرائد

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی اپنے اغراض و مقاصد کے پیشِ نظر مختلف ممالک میں وقتا فوقتا متعدد زبانوں میں کئی جرائد شائع کرتی ہے  ۔

اس کے علاوہ یہ اسمبلی مختلف ممالک میں اہل بیت علیہم السّلام کے بارہ میں شائع ہونے والے جرائد کی مالی  اعانت  بھی کرتی ہے ۔

۷۔ تعلیم

اہل بیت (ع) عالمی کونسل نے اپنے قیام کے آغاز سے ہی ملک اور بیرون ملک کے اپنے مخاطبوں کی تعلیم پر خصوصی توجّہ دی ہے ۔ اسمبلی کی جانب سے جو تعلیم دی گئی ہے اس کو مندرجہ فہرست میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے :

۱۔ رسمی تعلیم

۲۔ عملی تعلیم

۳۔ مذہبِ شیعہ کی شناخت کے لئے مختلف کورس اور اس کے بارہ میں شبہات کا جواب

۴۔ فاصلاتی تعلیم

۸۔ سوالات اور شبہات کے جواب کا شعبہ

اس شعبہ نے اپنے قیام سے آج تک ایسے ہزاروں سوالات اور شبہات کا جواب دیا ہے جو اسے ڈاک، ای میل یا ٹیلیفون کے ذریعہ موصول ہوئے ہیں۔

۹۔ اہل بیت (ع) پورٹل ویب سایٹ

سنہ ۱۳۷۸ ہجری شمسی کے ساتویں مہینہ (مہر) (اکتوبر ۱۹۹۹ عیسوی ) میں اس کا افتتاح ہوا ،یہ سایت اس  وقت www.ahl-ul-bayt.ir اور.ahlulbaytportal.ir  www کے ایڈرس پر شائقین کےلئے دستیاب ہے .

۱۰۔ اہل بیت (ع) اسمبلی کی نیوز ایجینسی (ابنا)

اہل بیت(ع) اسمبلی  کی ابنا کے نام سے  ایک مخصوص  خبر رساں سایٹ ہے جس کا ایڈرس یہ ہے www.abna.ir  یہ خبررساں سایٹ دنیا کی مختلف زبانوں جن میں انگلش، عربی ، فارسی ، ہسپانوی ، فرانسیسی ، جرمن، روسی ، چینی ، ترکی ، مالے ، اور اردو زبان شامل ہیں ، عالم ِ اسلام اور محبّان اہل بیت (ع) سے متعلّق اہم خبروں کو نشر کرتی ہے ، یہ نیوز ایجنسی اس وقت  دیگر سائٹوں اور خبررساں ایجنسیوں کے لئے شیعوں سے متعلّق ایک اہم ماخذاور منبع میں تبدیل ہو چکی ہے ۔

۱۱۔ الیکٹرانک معلومات

علمی سافٹ وئرزاور ملٹی میڈیا سی ڈیز کی تیّاری بھی اہل بیت عالمی اسمبلی کے دیگر اقدامات میں شامل ہے ۔

۱۲۔ کانفرنسوں اور سیمیناروں کا انعقاد

اہل بیت (ع) کی ثقافت کے فروغ اور نشر و اشاعت نیز  فکری اور عقیدتی مباحث  میں عالم اسلام کے مفکّروں اور دانشوروں  کے نظریات اور خیالات سے استفادہ کرنے کے لئے یہ اسمبلی قومی ، علاقائی اور عالمی سطح پر مختلف سیمینار منعقد کرتی رہتی ہے ۔

۱۳۔ چیٹ روم

اس سلسلہ میں اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی نے پالٹاک کے نام سے ایک چیٹ روم قائم کیا ہے جس میں  معارفِ اہل بیت (ع) سے متعلّق سینکڑوں گھنٹوں پر live اور ریکارڈشدہ مواد موجودہے جس سے پوری دنیا کے مسلمان اورمحبّان اہل بیت (ع) مستفید ہو رہے ہیں ۔

 

۱۴۔ مبلّغوں کی حمایت

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی دیگر تبلیغی اداروں کے تعاون سے مختلف ممالک کے تربیت یافتہ مبلّغوں کو کوتاہ مدّت ( ماہِ رمضان ، محرّم اور موسم گرما) اور طویل مدّت کے لئے مختلف مقامات  پر تبلیغی دوروں پر بھیجتی ہے

۱۵۔ مادی اور معنوی بنیادی ڈھانچہ کا فروغ

۰ مساجد اور دینی مراکز کی تعمیر

۰ مساجد اور دیگر اسلامی مراکز کی مالی اور معنوی اعانت

۰ لائبریریوں کو جدید سہولیات سے لیس کرنا

۰ علمی اور سائنسی میدان میں شیعوں کی حمایت

۰ اسکالر شپ،  اعلیٰ تعلیم کے لئے مواقع فراہم کرنا اور یونیورسٹی کے تھیسس  کی مالی اور معنوی اعانت ۔

۱۶۔ فکری اور ثقافتی سیاحت

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی  ایران کے پرکشش تاریخی ، تمدّنی اور مذہبی مقامات سے استفادہ کرتے ہوئے اور اس خدادا دولت کو غنیمت جانتے ہوئے مختلف ممالک کے محبّان اہل بیت (ع) کے لئے سیاحتی سفر کا اہتمام کرتی ہے تاکہ خالص معارف کے یہ تشنگان، ایران کے زیارتی مقامات کے معنوی ماحول سے سیراب ہونے کے ساتھ ساتھ اس کوتاہ مدّت تعلیمی موقع سے بھی مستفید ہو سکیں ۔ 

۱۷۔ شعبہ ٔ فن اور آرٹ

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ٔ  آرٹ نے سونے کے نقش و نگار سے آراستہ،  خطِ نستعلیق اور ثلث کے سانچے میں ڈھلے آیات و روایات کے دسیوں فن پارے تیاّر  کئے ہیں ۔

اہل بیت اسمبلی سے وابستہ ادارے

۱۔ مقامی  اسمبلیاں

اہل بیت (ع) کے چاہنے والوں نے اہل بیت عالمی اسمبلی کی فعاّلیت کو اپنا نصب العین قرار دیتے ہوئے پوری دنیا میں اپنی حکومتوں سے " اہل بیت (ع) مقامی اسمبلیوں  " کے قیام کی منظور حاصل کی ہے ، عصرِ حاضر  میں عالمی اہل بیت اسمبلی کے سرپرستی میں  دنیا کے مختلف گوشوں میں تیس سے زائد مقامی اسمبلیاں  قائم ہیں اس کے علاوہ دیگر دسیوں دفاتر مذہبی سرگرمیوں کے علاوہ دیگر فعّالیتوں کی اجازت  کے لئے درخواستیں دائر کر چکے ہیں۔

 

۲۔ ثقافتی    انجمنیں

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی سے وابستہ ثقافتی انجمنیں ، ثقافتی اور علمی ممتاز شخصیات، جامعۃ المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے طلبہ اور اس یونیورسٹی سے فارغ ہو کر اپنے ممالک   واپس جانے والے طلبہ ، امام خمینی یونیورسٹی قزوین اور دیگر یونیورسٹیوں کے فعّال غیرِ ایرانی طلبہ پر مشتمل ہیں ۔

۳۔ محبّانِ اہلیبیت(ع) کے حقوق کے دفاع کے لئے کمیٹی کا قیام

یہ کمیٹی چونسٹھ ممالک کے تین سو پچّاس اراکین پر مشتمل ہے ، اس کمیٹی نے محبّان اہل بیت(ع) اور دیگر مسلمانانِ عالم کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے ، ان کے جائز مطالبات کو منوانے ، عالمی تنظیموں میں مذہبی اور قومی امتیازی سلوک کے خلاف  مؤثّر اقدامات کئے ہیں اور عالمی اداروں تک مظلوموں کی آواز کو پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے  ۔

۴۔ اہل بیت (ع) کی پیرو خواتین کی عالمی کونسل

پیروئے اہل بیت  (ع) خواتین کی یہ کونسل دنیا کے پچّاس ممالک کی  ڈھائی سو خواتین پر مشتمل ہے جو شیعہ خواتین کے ثقافتی اور مذہبی  ارتقاء ، ان کے حقوق کےدفاع ،  ان سے غلط برتاؤ اور ظلم و ستم کے خلاف  سرگرم ہے ، اسی طرح مذکورہ کونسل  شیعہ خواتین کی تنظیم اور باہمی تبادلۂ خیال کا اہم مرکز شمار ہو تی ہے ۔

۵۔ پیروانِ اہل بیت(ع) جوانوں کی  عالمی فاؤنڈیشن

اس فاؤنڈیشن  نے سنہ ۱۳۷۹ ہجری شمسی  میں اپنے وجود کا اظہار کیا جب اس  فاؤنڈیشن کا پہلا اجلاس منعقد

 ہو ا ا ور اس میں چوّن ممالک کے ایک سوستّر مندوبین نے شرکت کی ۔

اسلامی اتّحاد، شیعہ جوانوں کے مابین تبادلۂ خیال ، ان کی علمی اور مذہبی طاقت میں اضافہ ، علم و فن میں نئی ایجادات ، موجودہ دور کے شناختی بحران اور برق رفتار مواصلاتی نظام کا مقابلہ کرنے کے لئے جوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنامذکورہ فاؤنڈیشن کے اہم اغراض و مقاصد ہیں ۔

۶۔ شیعہ خیّر افراد کی کمیٹی

یہ کمیٹی  اہلِ بیت(ع) کے چاہنے والے مالدار وں ، تاجروں اور دیگر قومی اور بین الاقوامی انسان دوست اداروں پر مشتمل ہے ،یہ کمیٹی دنیا کے پسماندہ اور ترقّی پذیر ممالک میں  بسنے والے مسلمانوں اور شیعوں کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہے ۔ مساجد ، امام باڑوں ، اسکولوں، کتب خانوں ، ہسپتالوں وغیرہ کی تعمیر میں مؤمنین کی مدد کرتی ہے تاکہ انہیں اقتصادی اور فکری  پسماندگی سے نجات دلاسکے ۔

اس کےعلاوہ یہ کمیٹی  پیغمبرِ رحمت ﷺ اور آپ کے اہل بیت علیہم السّلام کی سیرت کو نصب العین قرار دیتے ہوئے زلزلہ ، سیلاب ، جنگ اور دیگر مصائب و آلام میں   مصیبت زدہ افراد کی ہر ممکن امداد کرتی ہے ،

ان کے مصائب و آلام کے ازالہ  اور کمی کے لئے   بھر پور تعاون کرتی ہے ۔

۷ ۔ اہل بیت (ع) یونیورسٹی

اہل بیت (ع) عالمی کونسل نے غیر ایرانی شیعہ طلبہ کے لئے    ایم ،اے اور پی ایچ ڈی  ڈگریوں کے حصول کی غرض سے  اہل ِ بیت یونیورسٹی قائم کی ہے ،اس یونیورسٹی نے وزارتِ تعلیم ، ریسرچ اور ٹیکنالوجی سے منظوری حاصل کرنے کے بعد سنہ ۱۳۸۰ ہجری شمسی سے اپنی سرگرمی کاباقاعدہ    آغاز کیا ہے ۔

اس یونیورسٹی کی انٹرنیٹ سایٹ اس  ایڈریس www.abu.ac.ir پردستیاب ہے ۔

۸۔ عالمی تجارتی فنڈ

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی نے  اہل بیت (ع) کے چاہنے والے مالدار افراد کی دولت سے صحیح اور بجا استفادہ کے لئے ایک عالمی تجارتی فنڈ قائم کیا ہے ،  فی الحال  مذکورہ  فنڈ کے لئے ایک ابتدائی سرمایہ  فراہم کیا گیا ہے اور خیّر حضرات سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ، اس فنڈ کو شرعی اور جائز اقتصادی  سرگرمیوں میں استعمال کیا جائے گا ۔

۹۔ اسلامی عالمی بینک

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی نے ایک اسلامی عالمی بینک کی منظوری حاصل کر رکھی ہے ، اس بینک کا مرکزی دفتر   آزادانہ تجارتی  خطہ ( فری ٹریڈ زون )قشم میں ہوگا ، حتمی شکل دینے سے پہلے تقریبا دو سال تک تجرباتی مرحلہ سے گزرے گا۔ یہ بینک مسلمانانِ عالم کے سرمایہ کو جمع کرنے اور امّتِ مسلمہ کی ضرورتوں کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا

اسمبلی سے رابطہ

مرکزی آفس کا پتہ : ایران ، تہران ، بلیوارڈ کشاورز،قدس روڈ کے کارنر پر ، پلاک ۲۴۶، پوسٹل کوڈ   ۱۴۱۷۶۵۳۷۴۱۔

مرکزی آفیس کا پوسٹ بکس ۔ ایران ، تہران  ، پوسٹ بکس      ۳۸۳۱ ۔ ۱۴۱۵۵۔

مرکزی آفیس کا فون نمبر : ۷۔ ۸۸۹۷۰۱۷۱ ۔ ۰۲۱

قم کے آفیس کا پتہ(شعبۂ ثقافت) : ایران ، قم ، بلیوارڈ  جمہوری اسلامی ،گلی  نمبر ۶ کے کارنر پر ۔

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved