لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 نومبر 19

رجعت کا مسئلہ


           
رجعت کا مسئلہ

اثنا عشری شیعوں کے عقیدوں میں سے ایک عقیدہ ۔ ان روایات کے مطابق جو پیغمبر خدا ﷺ کے اہلبیت ؑ سے منقول ہیں اور جنہیں وہ مانتے ہیں، عقیدہ رجعت بھی ہے یعنی خداوند عالم مردوں کی ایک جماعت کو اسی جسم اور شکل میں جو وہ رکھتے تھے زندہ کرکے دنیا میں واپس بھیج دے گا، ان میں سے کچھ لوگوں کو عزت دے گا اور کچھ کو ذلیل و خوار کرے گا۔ سچوں کا حق، باطل پرستوں سے اور مظلوموں کا حق، ظالموں سے لے گا اور یہ واقعہ امام مہدی ؑ کے قیام کے بعد پیش آئے گا۔ 
جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہوکر اس دنیا میں پلٹیں گے وہ صرف ایسے لوگ ہوں گے جو ایمان کی بلندی پر فائز ہوگئے تھے یا اخلاقی خرابی کے پاتال میں گر گئے تھے اور زندہ ہونے کے کچھ عرصے کے بعد دوبارہ مرجائیں گے تاکہ قیامت کے دن زنددہ ہوں اور جس سزا و جزا کے مستحق ہیں اس کو پہنچ جائیں جیسا کہ قرآن میں خداوند عالم ان لوگوں کی آرزو بیان فرماتا ہے جو مرنے کے بعد زندہ ہوگئے لیکن ان کے کام اسی واپس سے بھی نہیں سدھر سکے اور وہ تیسری بار زندہ ہونے کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ اس مدت میں وہ درست ہوجائیں ، جہاں وہ کہتا ہے : 
قَالُوٓا رَبَّنَٓا اَمَتَّنَا اثنَتَینِ وَاَحیَیتَنَا اثنَتَینِ فَاعتَرَفنَا بَذُنُوبِنَا فَھَل اِلٰی خُرُوجٍ مِّن سَبِیلٍ ۔ 
کافر کہیں گے کہ اے پروردگار ! تو نے ہمیں دوبارہ جلایا اور دوبارہ مارا۔ ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، کیا (اس عذاب سے) باہر جانے کا بھی کوئی راستا اور ذریعہ ہے؟ (سورہ مومن ۔ آیت ۱۱) 
ہاں قرآ ن مجید میں رجعت (مردوں کا زندہ ہونا اور عرصے تک ان کی دوبارہ زندگی) کے متعلق آیتیں بیان کی گئی ہیں اور اس معاملے سے متعلق اہلبیت نبوت کی بہت سی روایتیں بھی ہم تک پہنچی ہیں۔ شیعہ امامیہ سب کے سب رجعت پر ایمان رکھتے ہیں سوائے ان تھوڑے سے لوگوں کے جنھوں نے رجعت کی آیتوں اور روایتوں کے معنیٰ میں تاویل کرلی ہے، مثلاً یہ کہ رجعت سے ظہور امام مہدی ؑ کے وقت امر اور نہی پر عملدرآمد کرانے کے لیے اہل بیت ؑ کی طرف حکومت کی واپسی مراد ہے، یہ مراد نہیں کہ مردہ انسان زندہ ہوں گے۔ 

 نام کتاب:         مکتب تشیع

مصنف:           محمد رضا مظفر
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved