لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2011 جولائی 28

حكومت كي اساس


           

حكومت كي اساس

 

كسي بھي حكومت كي برقراري كاتصور اس وقت تك نہيں كيا جا سكتاجب تك اس كي بنياديں دو اہم ستونوں پر استوار نہ ہوں ان دونوں ستونوں كا استحكام كہ جن كي حقيقت كو غير محسوس طور پر خود انساني ضمير دل كي گہرائيوں سے قبول كرتا ہے اور عوام كے درميان حكومت كي برقرار ي كے لئے ضروري ہے ۔

1) جس كي طرف گذشتہ بحثوں ميں اشارہ ہو چكا ہے يعني حكومت كا كوئي محكم و استوار سر چشمہ ہونا بے حدضروري ہے تاكہ حكومت اپني ولايت اور اقتدار كا جواز اس سے حاصل كرسكے ۔

2) دوسرا يہ كہ حكومت كا نفاذ اور حكومت كي پاليسياں اور منصوبے سماجي مصلحتوں اور بھلائيوں كے ساتھ ميل كھاتي ہوں۔

 

ڈكٹيٹر شپ اور جبر استبداد

 

اس منطقي بحث ميں ”ڈكٹيٹر شپ” جو جبرو استبداد پر استوار ہوتي ہے كوئي مفہوم نہيں ركھتي كيونكہ اس ميں اپنا اقتدار وتسلط برقرار ركھنے اور معاشري كو اپنے احكام و فرامين ماننے پر مجبور كرنے كے لئے ظلم و استبداد اور قوت وغلبہ كا سہارا ليا جاتا ہے، طاقت كي زبان كے علاوہ استبدادي حكومتوں كے حق ميں كسي قسم كي منطقي دليل پيش كرنا ممكن نہيں ہے كيونكہ ذكر شدہ دونوں ستونوں سے محروم ہوتي ہے نہ تو اس كو معاشري پر حكمراني كا كوئي قانوني و شرعي حق حاصل ہوتا ہے اور نہ ہي اس كے منصوبے اور پاليسياں سماجي اور معاشرتي بھلائيوں كے ساتھ ميل كھاتي ہيں ۔

يقينا بعض اوقات استبدادي حكومت بھي دعويٰ كرتي ہے كہ اس كے پاس انساني بنيادوں پر عقل و وجدان كو مطمئن كرنے والا حكمراني كاجواز اور دليل موجود ہے اور وہ يہ كہ ہم ظلم و ستم كے شكار لوگوں كو ظالم كے ظلم سے نجات دينا اور ظلم وستم كے ہاتھوں كو عدل و انصاف كي تلوار سے كاٹ دينا چاہتے ہيں اور كہتے ہيں كہ ہم نے معاشري ميں بعض لوگوں پر بعض دوسري افراد كے ناروا سلوك كو ختم كردينے كے لئے حكومت سنبھالي ہے، يا اس قسم كي دوسري باتيں، اسي طرح يہ بھي ممكن ہے كہ اہل استبداد دعويٰ كريں كہ وہ عقلي اصولوں كي بنياد پر شخصي ملكيتوں كو ايك ايسے دائري ميں محدود كرنا چاہتے ہيں جو عملي طور پر قابل اجراء ہوں، ظاہر ہے اس طرح كے نظريات ميں اگر واقعي طورپر قومي مفادات پيش نظر ركھے جائيں تو ملكيتوں ميں انساني تصرفات و اختيارات كو محدود كيا جا سكتا ہے اور حكومت كو دوام واستحكام بھي مل سكتا ہے، جيسا كہ ہماري گذشتہ بحثوں سے واضح ہو چكا ہے كہ حكومت كے احكام اور تسلط كا دائرہ ان حدود سے آگے بڑھ جاتا ہے كہ جس كا وہ دعويٰ كرتے ہيں اور انساني عقل و وجدان كي نظر ميں جو پابندياں جائز كہي جاتي ہيں معلوم ہوا عام طورپر رائج استبدادي حكومت ضرورت سے زيادہ اپنا پاؤں پھيلاليتي ہے خاص طورپر بڑے اور پيچيدہ معاشروں ميں يہ بات بخوبي قابل مشاہدہ ہے۔

پس استبدادي حكومت لوگوں پر تسلط واقتدار كے قانوني جواز سے پوري طرح محروم ہے اور طاقت و قدرت كے استعمال كے علاوہ حكمراني كا كوئي اور چارہ اس كے پاس نہيں ہے، (طاقت و قدرت ہي سے استفادہ كرتي ہے)

بنابرايں استبدادي نظام حكومت كے پہلے ستون (عوام الناس پر حق حكومت كي) قانوني بنياد سے عاري ہے اور صرف اس بات كا دعويٰ كر سكتي ہے كہ وہ دوسري ستون يعني عوام الناس كي بھلائي كو پيش نظر ركھتي ہے (اور اس بنياد پر استوار ہے) ان كاتمام ہم وغم معاشري كي ترقي اور فلاح و بہبود ہے ليكن كيا كيجئے گا ان كے پاس اس دعوے كي بھي كوئي دليل نہيں ہے ڈكٹيٹر حكمران طاقت واقتدار كے ذريعے تخت حكومت پر براجمان ہو كر اپنے تمام تر اعليٰ مقاصد بھول جاتے ہيں، انساني وجدان و ضميربھي اس طرز فكر كي مخالفت كرتا ہے، انساني وجدان كا تقاضا كرتا ہے كہ حكومت اور عدل وانصاف كي برقراري كے لئے صحيح راہ سے قانوني جواز حاصل ہو نا چاہئے، صرف معاشري كي فلاح و بہبودكے بہانے قہر وغلبہ سے حكومت كرنا صحيح نہيں ہے۔

انسانوں ميں حب ذات كا مرض بھي بہت شديد ہے اور اس مادي دنياميں ايك دوسري كے شخصي مفادات اور مصالح بھي آپس ميں متصادم ہيں، ان تمام امور كو پيش نظر ركھتے ہوئے يہ تصور كرلينا معقول نہيں ہے كہ ايك ڈكٹيٹر پوري معاشري كے مفادات كو شخصي مفادات پر مقدم ركھنے كا پابند رہےگا، بلكہ عام طور پر سبھي انسان اپنے مفادات كو دوسروں كے تمام امور (قومي مفادات) پر ترجيح ديتے ہيں۔

اور بعيد نہيں كہ ضمير ووجدان كي نگاہ ميں بھي اس كا يہ كام غلط اور ناروا محسوس نہ ہوكيونكہ قہر وغلبہ اور طاقت كے بل بوتے پر قائم ہونے والي حكومت خود كو كسي بھي قانو ن اور جواز كا پابند نہيں سمجھتي لہٰذا جو كسي بھي قسم كے جواز كے بغير خلاف وجدان لوگوں كا حكمران بن بيٹھا ہے اگر اپنے ذاتي مفادات كو عوام الناس كي فلاح و ترقي پر ترجيح دے تو كوئي بعيد بات نہ ہوگي۔

 ماخوذ از کتاب " اسا س الحکومۃ الاسلامیہ " مؤلّف : آیۃ اللہ سید کاظم حائری ، مترجم : انیس الحسنین

 
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved