لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 اپریل 09

اجتماعی اور سماجی بے توجہی (اجتماعی حقیقت کا فقدان )


           
اجتماعی اور سماجی بے توجہی (اجتماعی حقیقت کا فقدان )
خود فراموشی کبھی فردی ہے اور کبھی اجتماعی ہوتی ہے، جو کچھ بیان ہو چکاہے فردی خود فراموشی سے مربوط تھا ۔ لیکن کبھی کوئی معاشرہ یاسماج خود فراموشی کا شکار ہوجاتا ہے اور دوسرے معاشرہ کو اپنا سمجھتا ہے، یہاں بھی دوسرے معاشرہ کی حقیقت کو اپنی حقیقت سمجھتا ہے اور دوسرے معاشرہ کو اصل قرار دیتا ہے ۔ 
تقی زادہ جیسے افراد کہتے ہیں :ہمارے ایرانی معاشرہ کی راہ ترقی یہ ہے کہ سراپا انگریز ہوجائیں،ایسے ہی افراد ہمارے معاشرہ کو خود فراموش بنا دیتے ہیں ،اور اسی طرح کے لوگ مغربی معاشرہ کو اپنے لئے اصل قرار دیتے ہیں اورمغرب کی مشکلات کو اپنے سماج و معاشرہ کی مشکل اور مغرب کے راہ حل کو اپنے معاشرہ کے لئے راہ حل سمجھتے ہیںلیکن جب مغربی لوگ آپ کی مشکل کا حل پیش نہ کرسکے تو یہ کہدیا کہ یہ مہم نہیں ہے کیوں کہ مغرب میں بھی ایسا ہی ہے بلکہ ایسا ہونا بھی چاہیئے اور ایک ترقی یافتہ معاشرہ کا یہی تقاضا ہے اور ایسے مسائل تو ترقی کی علامت شمار ہوتے ہیں !۔ 
جب اجتماعی و سماجی مسائل و مشکلات کے سلسلہ میں گفتگو ہوتی ہے تو وہ چیزیں جومغرب میں اجتماعی مشکل کے عنوان سے بیان ہوئی ہیںانہیں اپنے معاشرہ کی مشکل سمجھتے ہیں اور جب کسی مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں تومغرب کے راہ حل کو تلاش کرتے ہیں اور اس کو کاملاً قبول کرتے ہوئے اس کی نمائش کرتے ہیں حتی اگر یہ کہا جائے کہ شاید ہمارا معاشرہ مغربی معاشرہ سے جدا ہے تو کہتے ہیں پرانی تاریخ نہ دہراؤ، وہ لوگ تجربہ اور خطا 
..............
(١)آل عمران ، ١٥٤۔
کے مرحلہ کو انجام دے چکے ہیں، ایسے افراداعتبارات ، خود اعتمادی ، دینی تعلیمات حتی کہ قومی اقدار کو معاشرہ کی شناخت میںاور اجتماعی مسائل اوراس کے بحران سے نکلنے کی راہ میں چشم پوشی سے کام لیتے ہیں ۔ 
جو معاشرے دوسرے معاشرہ کو اپنی جگہ قرار دیتے ہیں وہ دوسرے کے آداب و رسوم میں گم ہو جاتے ہیں، انتخاب و اقتباس نہیں کرتے ، کاپی کرتے ہیں، فعال نہیں ہوتے بلکہ فقط اثر قبول کرتے ہیں۔اقتباس وہاں ہوتا ہے جہاں اپنائیت ہو،اپنے رسم و رواج کو پیش کر کے موازنہ کیا گیا ہو اور اس میںبہترین کاانتخاب کیا گیا ہو، لیکن اگر کوئی معاشرہ خود فراموش ہو جائے تو اپنے ہی آداب و رسوم کو نقصان پہونچاتا ہے ، تمام چیزوں سے چشم پوشی کرتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے ۔ 
استکباری معاشروں کا ایک کام یہی ہے کہ ایک معاشرہ کو خود فراموشی کا شکار بنا دیں ،جب کوئی معاشرہ خود فراموشی کاشکار ہوجائے تو اس کے آداب و رسوم پریلغار کی ضرورت نہیں ہے ۔ثقافتی تفاہم کی صورت میں بھی دوسروں کے آداب و رسوم اپنائے جاتے ہیں۔ وہ چیزیں جو آداب و رسوم پہ حملہ کا سبب واقع ہوتی ہیں وہ معاشرہ کے افراد ہی کے ذریعہ انجام پاتی ہیں ۔ چہ جائیکہ شرائط ایسے ہوں کہ دشمن فتح و غلبہ کے لئے یعنی آداب و رسوم کو منتقل کرنے کے لئے نہ سبھی عناصر بلکہ اپنے پست عناصر کے لئے منظم پروگرام اور پلان رکھتے ہوں توایسی صورت میں اس معاشرہ کی تباہی و نابودی کے دن قریب آچکے ہیں اور آداب و رسوم و اقتدارمیں سے کچھ بھی نہیں بچا ہے جب کہ اس کے افراد موجود ہیںاور وہ معاشرہ اپنی ساری شخصیت کھو چکا ہے اور مسخ ہو گیا ہے ۔(١) 
ابنای روزگار بہ اخلاق زندہ اند 
قومی کہ گشت فاقد اخلاق مردنی است 
دنیا کے لوگ اپنے اخلاق کی وجہ سے زندہ ہیں ، جو قوم اخلاق سے عاری ہووہ نابود ہونے والی ہے ۔
..............
(١)اقبال لاہوری ؛امام خمینی اور مقام معظم رہبری کی دینی اور اجتماعی دانشور کی حیثیت سے استقلال و پائداری کی تقویت کے حوالے سے بہت زیادہ تاکید نیز اپنی تہذیب و ثقافت کو باقی رکھنا بھی اسی کی ایک کڑی ہے ۔

اپنے نئے انداز کے ساتھ علم پرستی (١) انسان پرستی (٢) مادہ پرستی(٣) نیز ترقی اور پیشرفت کو صرف صنعت اور ٹکنالوجی میں منحصر کرنا آج کی دنیا اور معاشرے میں خود فراموشی کی ایک جدید شکل ہے 

ماخوذازکتاب " انسان شناسی "             مؤلّف : حجۃ الاسلام محمود رجبی  

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0