لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 نومبر 19

اہلبیت رسول ﷺ کے اخلاق اور ان کا تربیتی مکتب


           
اہلبیت رسول ﷺ کے اخلاق اور ان کا تربیتی مکتب


تمہید :۔

ہمارے وہ امام اور پیشوا جو اہلبیت ؑ میں سے تھے یہ جانتے تھے کہ جب تک وہ زندہ ہیں حکومت (ظالم خلیفاؤں کے زبردستی چھین لینے کی وجہ سے) انہیں نہیں ملے گی اور ظالم حکومتیں انہیں اور ان کے پیرووں کو لازمی طور پر نہایت کڑی پابندیوں اور سخت دباؤ میں رکھیں گی۔ 
ان حالات میں یہ بات فطری ہے کہ ایک طرف امام اس قدر دباؤ اور شدید پابندی میں اپنی ، اپنے عزیزوں اور اپنے حامیوں کی حفاظت کے لیے احتیاط کی راہ اختیاط کریں یعنی تقیے سے اپنے اور اپنے پیرووں کے لیے اس وقت تک کام لیں جب تک دوسروں کے جانی نقصان کا خدشہ اور دین اسلام کو خطرہ لاحق نہ ہو تاکہ وہ اس کے ذریعے سے اپنے آپ کو سخت جانی دشمنوں اور حاسدوں سے بچا سکیں اور تقیے کے سائے میں زندگی بسر کرسکیں۔ 
دوسری طرف امامت کے ذمے دار منصب کے تقاضے کے مطابق یہ ضروری تھا کہ وہ اپنے حامیوں کو اسلامی احکام اور قوانین سکھائیں، انہیں صحیح اور مکمل دین کی راہ دکھائیں اور انہیں سماجی شعبے میں ایسی تربیت دیں کہ وہ پکے اور سچے مسلمانوں کا نمونہ بن جائیں۔ 
اہلبیت ؑ نے ایسی صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ رہبری کی کہ اس کتاب میں اس کی تشریح اور تفصیل کی گنجائش نہیں ہے ضخیم اور مفصل کتابیں جو اہلبیت ؑ کی احادیث پر مشتمل ہیں ان تعلیمات اور دانائیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ 
اس جگہ یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان کے تعلیمی اور تربیتی پروگراموں کے ان نمونوں کی طرف اشارہ کرتے چلیں جو اعتقادات کی بحثوں سے ملتے ہیں اور تعلیم ، تربیت اور سماجی روش کے ان مفید پروگراموں کا انداز بھی جانتے چلیں جن کے مطابق وہ اپنے ماننے والوں کو تربیت دیتے تھے ۔ انہیں خدائی نجات اور بخشش کے قریب لاتے تھے اور ان کی روحوں کو گناہوں کی کثافتوں سے پاک کر دیتے تھے۔

منبع :  نام کتاب:         مکتب تشیع

مصنف:           محمد رضا مظفر
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0