لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 اپریل 08

رابطۂ دنیا وآخرت کی حقیقت


           
رابطۂ دنیا وآخرت کی حقیقت
ایمان اورعمل صالح کا اخروی سعادت سے رابطہ اور کفر وگناہ کا اخروی شقاوت سے لگاؤایک طرح سے صرف اعتباری رابطہ نہیں ہے جسے دوسرے اعتبارات کے ذریعہ تبدیل کیا جاسکتا ہو اور ان کے درمیان کوئی تکوینی و حقیقی رابطہ نہ ہو اور ان آیات میں وضعی واعتباری روابط پر دلالت کرنے والی تعبیروں سے مراد، رابطہ کا وضعی واعتباری ہونا نہیں ہے بلکہ یہ تعبیریں انسانوں کی تفہیم اور تقریب ذہن کے لئے استعمال ہوئی ہیں . جیسے تجارت (٢)، خرید وفروش(٣) سزا(٤)جزا(٥) اور اس کے مثل ، بہت سی آیات کے قرائن سے معلوم ہوتا ہے جو بیان کرتی ہیں کہ انسان نے جو کچھ 
..............
(١)سورہ اعراف ٣٢۔
(٢) (یَا أَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا ھَل أَدُلُّکُم عَلَیٰ تِجَارَةٍ تُنجِیکُم مِّن عَذَابٍ أَلِیمٍ)(صف ١٠ ) 
( اے صاحبان ایمان! کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتادوں جو تم کو درد ناک عذاب سے نجات دے ) (٣)(نَّ اللّہَ 
اشتَرَیٰ مِنَ المُؤمِنِینَ أَنفُسَھُم وَ أَموَالَھُم بِأَنَّ لَھُمُ الجَنَّةَ)(توبہ ١١١) (اس میں تو شک ہی نہیں کہ خدا نے مومنین سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات پر خرید لئے ہیں کہ ان کے لئے بہشت ہے )
(٤)(وَ ذٰلِکَ جَزَائُ مَن تَزَکَّیٰ)(طہ٧٦)(اور جس نے اپنے آپ کو پاک و پاکیزہ رکھا اس کا یہی (جنت)صلہ ہے )
(٥)(فَنِعمَ أَجرُ العَامِلِینَ)(زمر٧٤) (جنہوں نے راہ خدا میں سعی و کوشش کی ان کے لئے کیاخوب مزدوری ہے )

بھی انجام دیا ہے وہ دیکھے گا اور اس کی جزا وہی عمل ہے.
اچھے لوگوں کی جزا کاان کے اچھے کاموںسے رابطہ بھی صرف فضل ورحمت کی بنا پر نہیں ہے کہ جس میں ان کے نیک عمل کی شائستگی اور استحقاق ثواب کا لحاظ نہ کیا گیا ہو کیونکہ اگر ایسا ہوگا تو عدل وانصاف ، اپنے اعمال کے مشاہدہ اور یہ کہ عمل کے مطابق ہی ہر انسان کی جزا ہے جیسی آیات سے قطعاً سازگار نہیں ہے ۔
مذکورہ رابطہ کو ایک انرجی کا مادہ میں تبدیل ہونے کی طرح سمجھنا صحیح نہیں ہے اور موجودہ انرجی اور آخرت کی نعمتوںکے درمیان مناسبت کا نہ ہونااور ایک انرجی کا اچھے اور برے فعل میں استعمال کا امکان نیز وہ بنیادی کردار جو آیات میں عمل ونیت کے اچھے اور برے ہونے سے دیاگیا ہے اس نظریہ کے باطل ہونے کی دلیل ہے.
گذشتہ مطالب کی روشنی میں ایمان وعمل صالح کا سعادت اور کفر وگناہ کا اخروی بد بختی سے ایک حقیقی رابطہ ہے اس طرح کہ آخرت میں انسان کے اعمالملکوتی شکل میں ظاہر ہوںگے اور وہی ملکوتی وجود، آخرت کی جزا اور سزا نیز عین عمل قرار پائے گا۔
منجملہ وہ آیات جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں مندرجہ ذیل ہیں:
(وَ مَا تُقَدِّمُوا لِأنفُسِکُم مِن خَیرٍ تَجِدُوہُ عِندَ اللّٰہِ)(١)
اور جو کچھ بھلائی اپنے لئے پہلے سے بھیج دوگے اس کو موجود پاؤ گے۔
(یَومَ تَجِدُ کُلُّ نَفسٍ مَّا عَمِلَت مِن خَیرٍ مُّحضَراً وَ مَا عَمِلَت مِنٍ
..............
(١)سورہ بقرہ١١٠ ۔
سُوء تَوَدُّ لَو أَنَّ بَینَھَا وَ بَینَہُ أَمَداً بَعِیداً)(١)
اس دن ہر شخص جو کچھ اس نے نیکی کی ہے اور جو کچھ برائی کی ہے اس کو موجود پائے 
گا آرزو کرے گا کہ کاش اس کی بدی اور اس کے درمیان میں زمانہ دراز ہوجاتا
(فَمَن یَعمَل مِثقَالَ ذَرَّةٍ خَیراً یَرَہُ٭وَ مَن یَعمَل مِثقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَرَہُ)
جس نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہے 
اسے بھی دیکھ لے گا ۔(٢)
(ِنَّمَا تُجزَونَ مَا کُنتُم تَعمَلُونَ)(٣)
بس تم کو انھیں کاموں کا بدلہ ملے گا جو تم کیا کرتے تھے ۔
(ِنَّ الَّذِینَ یَأکُلُونَ أَموَالَ الیَتَامَیٰ ظُلماً ِنَّمَا یَأکُلُونَ فِی بُطُونِھِم نَاراً)
بے شک جو لوگ یتیم کے اموال کھاتے ہیں وہ لوگ اپنے شکم میں آگ کھا
رہے ہیں۔(٤) 
دنیا اور آخرت کے رابطہ میں دوسرا قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ آخرت کی زندگی میں لوگ فقط اپنا نتیجۂ اعمال دیکھیںگے اور کوئی کسی کے نتائج اعمال سے سوء استفادہ نہیں کرسکے گا اور نہ ہی کسی کے برے اعمال کی سزا قبول کر سکے گا۔
(أَلا تَزِرُ وَازِرَة وِزرَ أُخرَیٰ وَ أَن لَّیسَ لِلِنسَانِ ِلا مَا سَعَیٰ)
کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے 
جس کی وہ کوشش کرتا ہے ۔(٥)
دوسرا نکتہ یہ ہے کے آخرت میں لوگ اپنی دنیاوی حالت کے اعتبار سے چار گروہ میں تقسیم ہونگے 
..............
(١)سورہ آل عمران ٣٠۔
(٢)سورہ زلزال ٧،٨۔
(٣)طور ١٦ ۔
(٤)سورہ نساء ١٠ ۔
(٥)سورہ نجم ٣٨،٣٩۔
الف)وہ لوگ جو دنیا وآخرت کی نعمتوں سے فیض یاب ہیں۔
(وآتَینَاہُ أَجرَہُ فِی الدُّنیَا وَ ِنَّہُ فِی الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِینَ)
اور ہم نے ابراہیم کو دنیا میںبھی اچھا بدلہ عطا کیا اور وہ تو آخرت میں بھی یقینی نیکو
کاروںمیں سے ہیں۔ (١)
ب)وہ لوگ جودنیا وآخرت میں محروم ہیں۔
(خَسِرَ الدُّنیَا وَ الآخِرَةَ ذٰلِکَ ھُوَ الخُسرَانُ المُبِینُ)
اس نے دنیا و آخرت میں گھاٹا اٹھایا صریحی گھاٹا۔(٢)
ج)وہ لوگ جو دنیا میں محروم اور آخرت میں بہرہ مند ہیں.
د) وہ لوگ جو آخرت میں محروم اور دنیا میں بہرہ مندہیں.
آخری دو گروہ کے نمونے بحث کے دوران گذرچکے ہیں ۔ دنیا وآخرت کے رابطے (ایمان وعمل صالح ہمراہ سعادت اور کفر وگناہ ہمراہ شقاوت )میں آخری نکتہ یہ ہے کہ قرآنی نظریہ کے مطابق انسان کاایمان اورعمل صالح اس کے گذشتہ آثار کفر کو ختم کردیتا ہے اور عمر کے آخری حصہ میں کفر اختیار کرناگذشتہ ایمان وعمل صالح کو برباد کردیتا ہے۔( کہ جس کو حبط عمل سے تعبیر کیا گیا ہے )
(وَ مَن یُؤمِن بِاللّٰہِ وَ یَعمَل صَالِحاً یُکَفِّر عَنہُ سَیِّئَاتِہِ )۔ (٣)
اور جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے اور عمل صالح انجام دیتا ہے وہ اپنی برائیوںکو محو کردیتا ہے 
(وَ مَن یَرتَدِد مِنکُم عَن دِینِہِ فَیَمُت وَ ھُوَ کَافِر فَأُولٰئِکَ حَبِطَت 
أَعمَالُھُم فِی الدُّنیَا وَ الآخِرَةِ ...)(٤)
..............
(١)سورہ عنکبوت ٢٧۔
(٢)سورہ حج ١١۔
(٣)سورہ تغابن ٩۔
(٤)سورہ بقرہ ٢١٧۔ 
اور تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھرگیا اور کفر کی حالت میںدنیا سے گیا ، 
اس نے اپنے دنیا و آخرت کے تمام اعمال برباد کردیئے ۔
دوسری طرف اگر چہ اچھا یابرا کام دوسرے اچھے یابرے فعل کے اثر کو ختم نہیں کرتاہے .لیکن بعض اچھے افعال ،بعض برے افعال کے اثر کو ختم کردیتے ہیں اور بعض برے افعال بعض اچھے افعال کے آثار کو ختم کردیتے ہیں مثال کے طور پر احسان جتانا، نقصان پہونچانا، مالی انفاق(صدقات) کے اثر کو ختم کردیتا ہے.
(لا تُبطِلُوا صَدَقَاتِکُم بِالمَنِّ وَ الأذَیٰ)(١)
اپنی خیرات کو احسان جتانے اور ایذا دینے کی وجہ سے اکارت نہ کرو۔
اور صبح وشام اور کچھ رات گئے نماز قائم کرنا بعض برے افعال کے آثار کو ختم کردیتا ہے قرآن مجید فرماتاہے: 
(وَ أَقِمِ الصَّلَٰوةَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَ زُلَفاً مِّنَ اللَّیلِ ِنَّ الحَسَنَاتِ 
یُذھِبنَ السَّیِّئَاتِ)
دن کے دونوں طرف اور کچھ رات گئے نماز پڑھا کروکیونکہ نیکیاں بیشک 
گناہوں کو دور کریتی ہیں۔(٢)
شفاعت بھی ایک علت وسبب ہے جو انسان کے حقیقی کمال وسعادت کے حصول میں موثر ہے. (3)
..............
(١)سورہ بقرہ ٢٦٤۔
(٢)ھود١١٤۔
(٣) قرآن مجید کی آیات میں ایمان اور عمل صالح ، ایمان اور تقویٰ، ہجرت اور اذیتوں کا برداشت کرنا، جہادنیز کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنا ، پوشیدہ طور پر صدقہ دینا ، احسان کرنا ، توبۂ نصوح اور نماز کے لئے دن کے ابتدا اور آخر میں نیزرات گئے قیام کرنا منجملہ ان امور میں سے ہیں جن کو بعض گناہوں کے آثار کو محو کرنے کی علت کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے ۔ملاحظہ ہو: محمد ٢؛مائدہ ١٢؛ عنکبوت ٧؛ مائدہ ٦٥؛ آل عمران ١٩٥؛ نساء ٣١؛ بقرہ٢٧١ ؛انفال ٢٩؛ زمر٣٥؛ تحریم ٨؛ ھود ١٤٤۔اچھے اور برے اعمال کا ایک دوسرے میں اثرانداز ہونے کی
مقدار اور اقسام کی تعیین کو وحی اور ائمہ معصومین کی گفتگو کے ذریعہ حاصل کرنا چاہیئے اور اس سلسلہ میں کوئی عام قاعدہ بیان نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ 
اچھے اور برے اعمال ،حبط و تکفیر ہونے کے علاوہ اس دنیا میں انسان کی توفیقات اور سلب توفیقات ، خوشی اور ناخوشی میں موثر ہیں ، مثال کے طور پر دوسروں پر احسان کرنا خصوصاً والدین اور عزیزو اقربا پر احسان کرنا آفتوں اور بلاؤں کے دفع اور طول عمر کا سبب ہوتا ہے اور بزرگوں کی بے احترامی کرنا توفیقات کے سلب ہونے کا موجب ہوتا ہے ۔ لیکن ان آثار کا مرتب ہونا اعمال کے پوری طرح سے جزا و سزا کے دریافت ہونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ حقیقی جزا و سزا کا مقام جہان اخروی ہے ۔ 
(٤)شفاعت کے کردار اور اس کے شرائط کے حامل ہونے کی آگاہی اور اس سلسلہ میں بیان کئے گئے شبہات اور ان کے جوابات سے مطلع ہونے کے لئے ملحقات کی طرف مراجعہ کریں ۔ 

منبع : انسان شناسی       مؤلّف : حجۃ الاسلام محمود رجبی  

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved