لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 نومبر 10

ظالموں کی مدد


           
ظالموں کی مدد

چونکہ ظلم ایک بڑا گناہ ہے اور اس کا نتیجہ بہت برا ہوتا ہے اس لیے خدا نے ظالموں کے ساتھ شریک ہونے اور ان کو سہارا دینے سے منع کیا ہے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: 
وَلاَ تَرکَنُوا اِلیَ الَّذِینَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ وَمَالَکُم مِن دَونِ اللہِ مِن اَولِیَآءَ ثُمَّ لاَ تُنضَرُونَ :۔ ظالموں کے ساتھ شرکت اور دوستی نہ کرو جو تم آگ میں جاپڑو۔ تم خدا کے سوا اور کسی سے دوستی نہ کرو ورنہ پھر کوئی تمہاری مدد نہیں کرے گا۔(سورہ ہود۔ آیت ۱۱۳) 
یہ ہے قرآن کی تربیت کا ڈھنگ اور وہ ہے اہل بیت ؑ کے تربیتی مکتب کا انداز! 
ظالموں کی مدد کرنے ، ان کی تقویت کا باعث بننے اور ان کے ساتھ کسی کام میں شرکت کرنے سے چاہے، وہ ایک کھجور کے ٹکڑے کے برابر ہی ہو، پرہیز اور نفرت کرنے کے سلسلے میں ائمہ اہلبیت ؑ کی بہت سی روایات ہم تک پہنچی ہیں۔ 
اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی سب سے بڑی بدبختی اور مصیبت یہ رہی ہے کہ ظالموں سے نرمی کرتے ہیں ان کے برے کاموں سے چشم پوشی کرتے ہیں اور ان سے تعلق قائم رکھتے ہیں، پھر یہ تو اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کہ ان سے نہایت گرمجوشی سے ملیں اور ظلم ڈھانے میں ان کی مدد کریں۔ 
واقعی حق کی راہ سے ہٹ کر مسلمانوں پر کیا کیا بدبختیاں اور نحوستیں نازل ہوئی ہیں کہ جن کے منحوس سائے میں دین دھیرے دھیرے کمزور ہوتا گیا اور اس کی طاقت گھٹتی چلی گئی یہاں تک کہ آج ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دین اجنبی ہوگیا اور مسلمان یا وہ لوگ جو صرف ظاہر میں مسلمان ہیں اور وہ جو غیر خدا سے دوستی کرتے ہیں خدا کی دوستی اور توفیق میں شامل نہیں رہے اور خدا کی مدد سے ایسے محروم ہوگئے کہ اب طاقتور عیسائی دشمنوں کا تو ذکر ہی کیا، یہودیوں جیسے سب سے زیادہ کمزور دشمنوں اور ظالموں سے مقابلے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔ 
ائمہ اطہار ؑ بہت کوشش کرکے شیعوں اور اپنے ماننے والے لوگوں کو ایسی باتوں سے جو ظالموں کی مدد کا موجب ہوتی تھیں الگ رکھتے تھے اور اپنے محبوں کو سختی سے تاکید کرتے تھے کہ ظالموں کی ذرا سی بھی مدد اور دوستی کا اظہار نہ کریں، اس بارے میں ان کے ارشادات شمار سے باہر ہیں، انہی میں ایک وہ بات ہے جو امام سجاد ؑ نے محمد بن مسلم زہری کو ایک خط میں لکھی تھی۔ آپ اس خط میں دشمنوں کی مدد سے خبردار کرنے کے بعد ان کے ظلم کے متعلق لکھتے ہیں: 
اَوَلَیسَ بِدُعَائِھِم اِیَّاکَ حِینَ دَعَوکَ جَعَلوُکَ قُطباً اَدَارُوا بِکَ رَحٰیَ مَظَالِمِھِم وَجِسراً یَعبَرُونَ عَلَیکَ اِلٰی بَلاَیَاھُم سِلماً اِلٰی ضَلاَلَتِھِم دَععِیاً اِلٰی غَیِّھم سَالِکاً سَلِبِیلَھُ یَدخُلُونَ بِکَ الشَّکَّ عَلَی العُلَمَآءِ وَیَقتَادُونَ بِکَ قُلُوبَ الجُھَّالِ اِلَیھِم فَلَم یَبلُغ اَخَصَّ وُزَرَآئِھِم وَلاَ اَقوٰٓی اَعوَانِھِم اِلاَّ دُونَ مَابَلَغَت مِن اِصلاَحِ فَسَادِھِم وَاختِلاَفِ الخَآصَّۃِ وَالعَآمَّۃِ اِلَیھِم فَمَآ اَقَلَّ مَآاَعطوکَ فِی قَدرِمَآ اَخَذُوا مِنکَ وَمَآ اَیسَرَ مَا عَمَرُوا لَکَ فِی جَنبِ مَا خَرَّبُوا عَلَیکَ فَانظُر لِنَفسِکَ فَاِنَّہُ لاَ یَنظُرُ لَھَا غَیرُکَ حَاسِبِھَا حِسَابَ رَجُلٍ مَسؤُلٍ :۔ کیا تمہارے لیے دشمنوں کے بلاوے کی یہ غرض نہیں تھی کہ تم کو اپنے ظلم کی چکی کا محور و مدار اور پشت و پناہ بنالیں اور تمہیں اپنے منحوس مقاصد تک پہنچنے کے لیے پل ، اپنی گمراہی کی سیڑھی، ظلم کا اعلان کرنے والا اور اپنے ظلم کے راستے کا مسافر سمجھ لیں۔ 
انہوں نے تمہاری شمولیت سے عقلمندوں کے دل میں شک پیدا کر دیا اور تمہارے وسیلے سے بیوقوفوں کے دل اپہنی طرف مائل کرلیے۔ انہوں نے اچھے موقعے پر اپنا فساد چھیڑکر اور خاص و عام کی توجہ اپنی طرف کرکے جو فائدہ تم سے اٹھایا وہ خاص الخاص وزیروں جی حضوریوں اور سب سے زیادہ طاقتور دوستوں سے بھی نہیں اٹھایا، تمہارے دیے ہوئے کے بدلے میں انہوں نے جو کچھ تمہیں دیا وہ بہت تھوڑا ہے اورتمہاری اتنی ساری بربادیوں کے بدلے میں انہوں نے جو کچھ تمہارے لیے بسایا وہ بہت کم ہے۔ اپنے نفس کے بارے میں سوچو کیونکہ تمہارے علاوہ اور کوئی اس کے متعلق نہیں سوچے گا اور اپنے نفس سے اتنا حساب لو اور اتنی پوچھ گچھ کرو جتنا ایک ذمے دار اور فرض پہچاننے والا آدمی اس سے حساب لے گا۔ 
(نوٹ، تحف العقول عن آل الرسول صفحہ ۱۹۸ مطبوعہ سستہ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱۹۷۴)۔ 
امام ؑ کا آخری جملہ واقعی اہم ہے کیونکہ جب انسان پر خواہش نفسانی غالب آجاتی ہے تو وہ اپنے آپ کو اپنے ضمیر میں بہت ہی حقیر اور ہیچ محسوس کرتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں خود کو اپنے اعمال کا ذمے دار نہیں پاتا۔ اپنے کام بہت چھوٹے گنتا اور سوچتا ہے کہ ان کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا۔ اس طریقے کا اختیار کرنا انسان کے نفس امارہ کی خفیہ کارروائیوں میں شامل ہے۔ 
امام زین العابین ؑ کا اس بیان سے یہ مقصد ہے کہ محمد بن مسلم زہری کو نفس کے ان بھیدوں سے جو ہمیشہ انسان میں موجود رہتے ہیں آگاہ کردیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر یہ خیال غالب آجائے اور وہ انہیں ان کی ذمے داری کے مقام سے ہٹا دے۔ 
ظالموں کے ساتھ کام کرنے کے گناہ کو آنکھو کے سامنے لے آنے میں پچھلی گفتگو سے زیادہ واضح اور پرتاثیر صفوان جمال (اونٹ والے) سے ساتوی امام حضرت موسیٰ ب جعفر ؑ کی بات چیت ہے۔ صفوان ساتویں امام کے شیعہ اورمعتبر راوی تھے۔ 
کشی کی کتاب رجال کی روایت کے مطابق جو اس نے ""صفوان ان سے بیان کرتا ہے"" کے ذیل میں دی ہے ، صفوان نقل کرتے ہیں کہ میں امام موسیٰ ب جعفر ؑ کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: 
اے صفوان ! ایک کام کے سوا تمہارے سب کام اچھے ہیں۔ 
میں نے کہا : میں آپ کے صدقے، وہ ایک کام کون سا ہے؟ 
امام ؑ نے فرمایا: وہ یہ ہے کہ تم اپنے اونٹ اس مرد (ہارون رشید) کو کرائے پر دیتے ہو۔ 
میں نے کہا : خدا کی قسم ! میں اپنے اونٹ حرام ، گناہ ، باطل ، شکار اور عیاشی کے کاموں کے لیے نہیں دیتا بلکہ میں نے اپنے اونٹ مکے جانے کے لیے کرائے پر دیے ہیں اور پھر میں خود اونٹوں کے ساتھ نہیں جاتا بلکہ اپنے غلاموں کو بھیج دیتا ہوں۔ 
امام ؑ نے فرمایا: اے صفوان ! کیا تمہارے کرائے کی شرط یہ ہے کہ وہ واپس آجائیں؟ 
میں نے کہا : آپ پر فدا ہوجاؤں ، بے شک۔ 
آپ نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ وہ زندہ واپس آجائیں تاکہ تمہارا کرایہ وصول ہوجائے۔ 
میں نے عرض کیا : جی ہاں ۔ 
آپ نے فرمایا : 
فَمَن اَحَبَّ بَقَآءَ ھُم فَھُوَمِنھُم وَمَن کَانَ مِنھُم فَھُوا کَاَن وَّرَدَ النَّارَ :۔ جو ان کے زندہ رہنے کو اچھا سمجھتا ہے وہ انہیں کے زمرے میں داخل ہے اور جو ان کے زمرے میں داخل ہے وہ دوزخ کی آگ میں ڈالا جائے گا۔ 
صفوان کہتا ہے کہ میں گیا اور میں نے تمام اونٹ ایک دم بیچ دیے۔ 
ہاں جب محض ظالموں کی زندگی باقی رہنے کی خواہش ایسی ہوسکتی ہے تو پھر اس شخص کا کیا ہوگا جو مستقل طور پر ظالموں کی مدد کرتا ہے اور ان کے ظلم اور زیادتی میں ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور پھر ان کا پوچھنا ہی کیا جو انہیں کی سی عادتیں اختیار کریں اور ان کے ساتھ ان کے کاموں ، منصوبوں اور گروہوں میں شریک ہوجائیں۔ 

 نام کتاب:         مکتب تشیع

مصنف:           محمد رضا مظفر
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved