لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 مئی 11

اسلام ميں عورت اور مرد ميں مساوات


           

اسلام ميں عورت اور مرد ميں مساوات

مسلمان خاتون

 

اسلام کي آمد سے انساني تاريخ   ميں ايک بہت بڑا انقلاب برپا ہوا اور فکرو نظر کي دنيا ہي بدل گئي -  معاشرتي طور پر انساني اقدار ميں تبديلياں رونما ہوئيں اور انسان نے ايک نۓ انداز سے سوچنا شروع کر ديا - جہالت کے دور کے طور طريقے اور رسوم و آداب اسے اب برے لگنے لگے اور اسلام کے بتاۓ ہوۓ اصولوں اور نئي زندگي نے ايک اعلي اقدار کے معاشرے کي بنياد رکھ کر انساني زندگي ميں خوشياں اور اميد کي کرن روشن کر دي - عورت انساني معاشرے کا ايک ايسا باب تھي جسے وہ اہميت نہيں دي جاتي تھي جس کي وہ حقدار تھي - اس صنف نازک کے ساتھ بہت ہي برا سلوک کيا جاتا تھا مگر اسلام کي آمد کے بعد اسلامي تعليمات کي روشني ميں اس صنف نازک کو اس کے حقوق ملے اور انسان کا عورت کے بارے ميں پورا نقطۂ نظر اور عملي رويہ بدل گيا اور عورت اور مرد کے تعلقات نئي بنيادوں پر قائم ہوئے-

اسلام سے پہلے عورت کي تاريخ مظلومي اور محکومي کي تاريخ تھي- اسے کم تر اور فرو تر سمجھا جاتا تھا ، اسے سارے فساد اور خرابي کي جڑ کہا جاتا اور سانپ اور بچھو سے جس طرح بچا جاتا ہے اس طرح اس سے بچنے کي تلقين کي جاتي تھي- بازاروں ميں جانوروں کي طرح اس کي خريد و فروخت ہوتي تھي- اس کي کوئي مستقل حيثيت نہيں نہيں تھي بلکہ وہ مرد کے تابع تھي- اس کا کائي حق نہيں تھا- وہ مرد کے رحم و کرم پر جيتي تھي- اسلام نے اس کي محکومي کے خلاف اتنے زور سے آواز بلند کي کہ ساري دنيا اس سے گونج اٹھي اور آج کسي ميں يہ ہمّت نہيں ہے کہ اس کي پيچھلي حيثيت کو صحيح اور بر حق کہہ سکے- اس نے پوري قوت سے کہا-

يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفسٍ واحدةٍ وخلق منها زوجها وبث منهما رجالًا كثيرًا ونساءً واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبًا

ترجمہ:

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہيں ايک جان سے پيدا کيا اور اسي سے اس کا جوڑا بنايا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتيں پھيلا ديے اور اللہ سے ڈرو جس کے ذريعہ تم ايک دوسرے سے مدد طلب کرتے ہو اور رشتوں کا احترام کرو- بشک اللہ تمہيں ديکھ رہا ہے- ( حوالہ: النساء – 1 )

منبع : تبیان ڈاٹ نٹ  

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0